Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس دفعہ پاکستان کا موسم کچھ زیادہ ہی شدید اور ٹھنڈا ہے اور سرد ہوائیں بھی چلتی رہتی ہیں ۔سردی گرمی کی نسبت اچھی ضرور لگتی ہے لیکن اس کے ساتھ آنے والے فلو ، نزلہ زکام ، صحت کی خرابی کے تحفے کبھی کبھی مزا خراب کر دیتے ہیں پھر اگر مناسب انداز میں جسم کو سردی سے بچانے کے لیے انتظام نہ ہو تو سردی خطرناک ہے ۔ سارے ہی ماں باپ بچوں کے لئے خصوصی انتظامات کر رہے ہوں گے لیکن گزارش ہے کہ اپنے گھر میں موجود بزرگوں کا خصوصی خیال رکھیں ۔

گھر کے بڑے بعض دفعہ چھوٹوں کی فکر میں خود کو بھول ہی جاتے ہیں جیسے نانا نانی دادا دادی ساس سسر یا عمر رسیدہ والدین یا اکثر کسی سے مدد لینے یا کسی کو اپنی ضرورت بتاتے ہوے شرماتے ہیں ۔

بہتر طریقہ یہ ہے کہ خود سے ہی پوچھ لیا جاۓ یا بچوں کا دھیان رکھتے ہوے بڑوں کے لیے بھی تسلی کرلی جاۓ کہ :

ان کو انڈے ابال کر دے دیے جائیں

ہفتے میں ایک دو دفعہ چکن سوپ یا سبزی کا سوپ بنا دیا جاۓ

چاۓ بناتے ہوے ادرک یا تھوڑی دار چینی لونگ ڈال دی جاۓ

رات کو قہوے کا پوچھ لیا جاۓ

اسی طرح اُن کے اوڑھنے کے کمبل اور گرم چادر چیک کر لیں کہ کہیں اس سال دوسرے کی ضرورت تو نہیں ۔

گرم کپڑے ، سوئیٹر ، کارڈیگن ،شال ، ٹوپی وغیرہ موسم کے حساب سے گرم ہیں یا اگر ممکن ہو دوسری خرید دی جاۓ ۔ سردیاں جیسی شدت اختیار کرنے لگی ہیں تو حسب استطاعت اپنے بڑوں کو سردی کی آمد سے قبل چھوٹا سا ونٹر گفٹ پیک دیا جاسکتا ہے جس میں ٹوپی ، مفلر ، شال ، گرم موزے وغیرہ ہوں ۔

سردیوں میں عموماً جوائنٹ پین زیادہ ہوتے ہیں تو بستر میں سکائ کے لیے ہوٹ واٹر باٹل رکھ دی جاۓ ۔

اُن کے باتھ روم میں گرم پانی کا انتظام چیک کرتے رہیں کہیں نہاتے یا وضو کرتے ہوے جسم ہی نہ اکڑ جاۓ ۔

اُن کے کمرے میں اگر سردی یا ہوا کے داخلے کی کوئ کھڑکی یا سوراخ ہوں تو اُن کو کور کرنے کا مناسب انتظام ہو۔

کچھ گرم ڈرائ فروٹس کا پیکٹ اُن کو بھی دے دیا جاۓ تاکہ وقتا فوقتا کھاتے رہیں کیونکہ سردی میں بھوک بھی زیادہ لگتی ہے ۔

نوجوانی میں انسان ہلکے کپڑے پہن کر برف باری میں بھی نکل جاۓ لیکن عمر کے ساتھ موسم کی سختی برداشت کرنا مشکل ہے ۔خیال اور محبت سے ہی دنیا خوبصورت ہو سکتی ہے ۔اندر کی بھی اور باہر کی بھی ۔

۔۔ایمن طارق۔۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •