Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سپاہ پاسداران انقلاب کی فضائیہ کے سربراہ جنرل حاجی زادہ نے ایران کی جانب سے امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملے کے حوالے سے اہم پریس کانفرنس کی ہے۔

پریس کانفرنس میں ایران کے قومی اور پاسداران کے پرچم کے علاوہ حزب اللہ، حشد الشعبی، انصار اللہ، فلسطینی مزاحمت، فاطمیون اور زینبیوں کا پرچم بھی لگایا گیا تھا جو خود میں ایک خاومش پیغام ہے۔
جنرل حاجی زادہ نے کہا ہے کہ ہم نے امریکی دہشت گرد فوج کے اڈے عین الاسد پر حملے کے وقت ایک سائبر اٹیک کے ذریعے امریکہ کے جنگی بحری بیڑے اور ان ڈرون طیاروں کے نظام کو بھی مفلوج کردیا تھا جو اطلاع رسانی کا کام کرتے تھے۔ ہمارے اس اقدام نے امریکی حکام کو شدید نفسیاتی اور ذہنی دباو کا شکار کردیا ہے۔

شہید سلیمانی نامی آپریشن میں امریکہ کے اہم فوجی اڈے (عین الاسد، عراق) کو نشانہ بنایا جانا امریکہ کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا آغاز ہے جو پورے خطے میں جاری رکھا جائے گا۔

ہم کسی کو قتل نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ ہم (اس مرحلے پر) دشمن کی عسکری طاقت کو ضرب لگانا چاہتے تھے۔

ہم نے ماضی میں داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کے خلاف جو کاروائیاں کی ہیں ان میں ہمیں ان کی جانب سے مقابلے کی توقع نہیں تھی لیکن فطری طور پر شہید سلیمانی آپریشن میں ہمارا سامنا امریکہ سے تھا، امریکی فوجی اڈوں کی جانب دوسری عالمی جنگ کے بعد سے کوئی ایک گولی نہیں چلائی گئی، اس تناظر میں ہم امریکہ کی جانب سے مقابلے کی توقع رکھ رہے تھے اور ہم نے خود کو ایک بڑی جنگ کے لیے تیار کیا ہوا تھا اور اس کے بعد مزید سنگین اور بڑے حملے ہمارے مدنظر تھے کہ ان (امریکیوں) کے اجتناب کیوجہ سے جنگ آگے نہیں بڑھی۔

ہم نے امریکی فوجی اڈے کی جانب صرف 13 میزائل مارے ہیں جبکہ سیکنڑوں دیگر میزائیل تیار کھڑے کررکھے تھے۔

ہم اس اپریشن میں کسی کو قتل نہیں کرنا چاہتے لیکن، اگرچہ ہمارے اس حملے میں دسیوں مارے گئے اور زخمی ہوئے ہیں۔ ہم اس آپریشن کو اس طرح بھی لانچ کرسکتے تھے کہ 500 امریکی مارے جائیں اور اگر امریکی جواب دیتے تو دوسرے اور تیسرے مرحلے میں 4 سے 5 ہزار امریکی فوجی مارے جاتے۔

تمام میزائل ٹارگٹ پر لگے ہیں اور ہمارے میزائلوں کی جانب کوئی ایک گولی بھی نہیں چلائئ جاسکی، امریکی مکمل الرٹ کی حالت میں تھے اور شناخت کرنے والے 12 امریکی ڈرون (اس فوجی اڈے) کی حفاظت کررہے تھے۔

عین الاسد کا امریکی فوجی اڈہ سب سے بڑا اور اسلامی جمہوریہ ایران کی خاک سے دور ترین فوجی اڈہ تھا اور ہم نے اس آپریشن میں پہلے سے تعین شدہ اہداف تباہ کرنے کے لیے فاتح 313 اور قیام نامی میزائل استعمال کیے ہیں

ہم امریکی فوج کی آرام گاہوں اور قیام گاہوں کو بھی نشانہ بنا سکتے تھے لیکن ہم افراد کو قتل کرنے کے درپے نہیں تھے بلکہ ہم امریکی جنگی صلاحیت اور کنٹرول روم کو ضرب لگانا چاہتے تھے۔

شہید سلیمانی کی شہادت کی منصوبہ بندی پر عملدرآمد کے دوران عراق میں قائم تاجی، عین الاسد، اردن میں قائم شہید معفر اور کویت میں قائم علی السالم امریکی فوجی اڈہ شریک تھا انتقام لینے کے لیے ہمارا پہلا آپشن تاجی کا فوجی اڈہ تھا لیکن بعدازاں ہم نے عین الاسد کا انتخاب کیا۔

امریکی جنرل سلیمانی کی شہادت کے بعد سے مکمل طور پر الرٹ تھے اور 12 ڈرون طیارے اڈے کی حفاظت پر مامور تھے لیکن اس سب کے باوجود اور تمام تر تیاری کے باوجود امریکہ کوئی ردعمل دکھانے میں ناکام رہا۔

امریکی ہمشیہ پروپیگنڈا کے ذریعے میزائل ڈیفنس ڈھال اور میزائل کے حملے کے مقابلے کی اپنی صلاحیت بتاتے نظر اتے ہیں لیکن گراؤنڈ پر ہم نے انہیں مکمل طور پر غافل کر دیا ہے۔

سپاہ کے امریکی فوجی اڈے پر حملے کے بعد کم از کم 9 سی ون تھرٹی امریکی طیارے زخمیوں کو لیکر اردن اور قابض اسرائیل گئے ہیں اور چند شینوک ہیلی کاپٹرز کے ذریعے متعدد زخمیوں کو بغداد کے امریکی ہسپتال میں بھی منتقل کیا گیا ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد سے کسی کو جرات نہیں ہوئی امریکا کی جانب ایک گولی بھی چلائے اور کوئی ملک ااس کی ذمہ داری قبول کرے۔ ایران کا میزائیل حملہ تمام گروہوں اور عوام کے تمام طبقات کے مطالبے پر دقیق اور محاسبہ شدہ کیا گیا ہے جو خطے کی تبدیلیوں کی تاریخ میں ایک نیا باب ثاںت ہوگا۔

امریکی پروپیگنڈا اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے آگے بڑھتے ہیں جبکہ ایران جیسے ملک کے ساتھ مقابلے کی صلاحیت نہیں رکھتے، میں امریکیوں کو کہتا ہوں کہ رضاکارانہ طور پر عرب ممالک سے نکل جائیں۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *